سنن نسائی حدیث ۲۰۲۸ - جنازہ سے واپسی پر سواری

جنازہ سے واپسی پر سواری کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۲۸

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَا : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قال : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةِ أَبِي الدَّحْدَاحِ ، فَلَمَّا رَجَعَ أُتِيَ بِفَرَسٍ مُعْرَوْرًى فَرَكِبَ وَمَشَيْنَا مَعَهُ " .

جابر بن سمرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابودحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے میں (شرکت کے لیے) نکلے، تو جب آپ لوٹنے لگے تو (آپ کے لیے) بغیر زین کے ننگی پیٹھ والا ایک گھوڑا لایا گیا، آپ (اس پر) سوار ہو گئے، اور ہم آپ کے ہمراہ پیدل چلنے لگے۔

سنن نسائی حدیث ۲۰۲۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابودحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شرکت کے لیے نکلے۔ جب آپ واپس ہونے لگے تو آپ کے لیے ایک ایسا گھوڑا لایا گیا جس پر زین نہیں تھی، یعنی وہ ننگی پیٹھ والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور صحابہ آپ کے ساتھ پیدل چلنے لگے۔ اس روایت کا اصل موضوع جنازہ سے واپسی اور سواری ہے۔ حدیث میں صرف واپسی کا ذکر ہے، اس لیے اسے جنازہ میں جانے یا واپسی کے آداب کے وسیع احکام کے ساتھ ملاتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے۔ متن میں ابودحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے، گھوڑے اور صحابہ کے پیدل چلنے کی بات آئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابی کے جنازے میں شریک ہوئے۔
  • جنازہ سے واپسی پر آپ کے لیے گھوڑا لایا گیا۔
  • صحابہ کرام آپ کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔
  • حدیث میں جو عمل بیان ہوا ہے، اسے اسی واقعے تک محدود رکھ کر سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں