سنن نسائی حدیث ۲۰۲۹ - قبر پر عمارت اور لکھائی کی ممانعت

قبر پر عمارت بنانے کی ممانعت

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۲۹

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قال : حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ ، قال : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ أَوْ يُجَصَّصَ زَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَوْ يُكْتَبَ عَلَيْهِ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ قبر پر قبہ بنایا جائے یا اس کو اونچا کیا جائے، یا اس کو پختہ بنایا جائے، سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ”یا اس پر لکھا جائے“ کا اضافہ ہے۔

سنن نسائی حدیث ۲۰۲۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر عمارت بنانے، قبر کو اونچا کرنے، اسے پختہ بنانے سے منع فرمایا۔ سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں یہ اضافہ بھی آیا ہے کہ قبر پر لکھا نہ جائے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع قبروں کے احکام ہے۔ اس میں قبر پر قبہ، اضافی اونچائی، پختہ کام اور لکھائی جیسے امور کا ذکر ہے۔ اس لیے یہ روایت قبر پر عمارت، پختہ قبر، قبر پر لکھنا اور قبروں کی سادگی جیسے سرچ الفاظ سے متعلق ہے۔ متن کا انداز صاف ہے، مگر بیان کرتے وقت یہی کہنا درست ہے کہ حدیث میں ان چیزوں سے منع کیا گیا ہے؛ اس سے آگے اپنی طرف سے تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں قبر پر عمارت بنانے سے منع کیا گیا ہے۔
  • قبر کو بڑھا کر اونچا کرنے کا ذکر ممانعت میں آیا ہے۔
  • قبر کو پختہ بنانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
  • ایک روایت میں قبر پر لکھنے کی ممانعت کا اضافہ آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں