سنن نسائی حدیث ۲۰۳۶ - قبروں کی زیارت موت یاد دلاتی ہے
قبروں کی زیارت موت یاد دلاتی ہے
سنن نسائی : ۲۰۳۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۳۶
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : زَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ وَقَالَ : " اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، وَاسْتَأْذَنْتُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي ، فَزُورُوا الْقُبُورَ ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْمَوْتَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی، تو آپ خود رو پڑے اور جو آپ کے اردگرد تھے انہیں بھی رلا دیا، اور فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ میں ان کے لیے مغفرت طلب کروں تو مجھے اجازت نہیں ملی، (تو پھر) میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی گئی، تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی۔ آپ رو پڑے اور آپ کے آس پاس موجود لوگ بھی رو پڑے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ اپنی والدہ کے لیے مغفرت طلب کروں، مگر مجھے اجازت نہیں ملی۔ پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دی گئی۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ تم قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع یاد موت اور زیارت قبور ہے۔ روایت میں اجازت، رونا، اور مغفرت کی اجازت نہ ملنے کا ذکر بھی صاف موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبروں کی زیارت موت کی یاد دلاتی ہے۔
- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی۔
- مغفرت طلب کرنے کی اجازت نہ ملنے کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
- قبرستان کی زیارت میں دل کی نرمی کا پہلو بھی دکھائی دیتا ہے۔
