سنن نسائی حدیث ۲۰۴۶ - قبر پر بیٹھنے کی ممانعت

قبر پر بیٹھنا کیوں منع ہے؟

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۴۶

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ حَتَّى تَحْرُقَ ثِيَابَهُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا انگارے پر بیٹھنا یہاں تک کہ اس کے کپڑے جل جائیں اس کے لیے بہتر ہے اس بات سے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۰۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں قبر پر بیٹھنے کی سخت ممانعت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کا انگارے پر بیٹھنا، یہاں تک کہ اس کے کپڑے جل جائیں، اس کے لیے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔ اس مثال سے بات کی شدت سمجھ آتی ہے۔ قبر کسی انسان کی آخری آرام گاہ ہے، اس کے ساتھ بے ادبی نہیں ہونی چاہیے۔ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ قبرستان میں چلتے، بیٹھتے اور رکتے وقت انسان کے دل میں ادب رہے۔ قبر پر بیٹھنا ایک عام سا عمل لگ سکتا ہے، مگر اس روایت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ معمولی بات نہیں۔ قبرستان میں احترام اور سنجیدگی لازم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قبر پر بیٹھنے سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔
  • قبرستان میں ہر عمل ادب کے ساتھ ہونا چاہیے۔
  • حدیث کی مثال اس ممانعت کی شدت بتاتی ہے۔
  • میت کی قبر کو عام زمین کی طرح استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں