سنن نسائی حدیث ۲۰۴۷ - قبروں پر نہ بیٹھو
قبروں پر نہ بیٹھنے کا واضح حکم
سنن نسائی : ۲۰۴۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۴۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقْعُدُوا عَلَى الْقُبُورِ " .
عمرو بن حزم روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ قبروں پر نہ بیٹھو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر حکم نقل ہوا ہے کہ قبروں پر نہ بیٹھو۔ کبھی مختصر بات بھی بہت گہرا مطلب رکھتی ہے۔ قبرستان تفریح یا عام بیٹھک کی جگہ نہیں، بلکہ عبرت، دعا اور آخرت کی یاد کا مقام ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف طور پر منع فرما دیا تو مسلمان کو اس عمل سے بچنا چاہیے۔ اس روایت میں کوئی لمبی تشریح نہیں، لیکن الفاظ واضح ہیں۔ قبر پر بیٹھنے سے بچنا میت کے احترام، قبرستان کے ادب اور اپنے دل کی نرمی کے لیے بہتر ہے۔ قبر کے پاس کھڑے ہونا، دعا کرنا اور سلام کہنا الگ بات ہے، مگر قبر کو بیٹھنے کی جگہ بنانا منع ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبروں پر بیٹھنے سے براہ راست منع کیا گیا ہے۔
- قبرستان کو عام بیٹھک کی جگہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
- مختصر نبوی حکم بھی عمل کے لیے کافی ہوتا ہے۔
- میت کی قبر کے ساتھ ادب کا معاملہ کرنا چاہیے۔
