سنن نسائی حدیث ۲۰۴۸ - انبیاء کی قبروں کو مسجد بنانا
قبروں کو مسجد بنانے سے سخت ممانعت
سنن نسائی : ۲۰۴۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۴۸
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
عائشہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی ہے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ قبروں کے معاملے میں عبادت کا رخ بدلنے یا قبر کو عبادت گاہ بنانے سے بچا جائے۔ قبر کا احترام اپنی جگہ ہے، مگر قبر کو مسجد بنانا بہت سنگین معاملہ ہے۔ حدیث میں انبیاء کی قبروں کا ذکر آیا ہے، اس سے بات کی سختی مزید واضح ہوتی ہے۔ مسلمان کو عبادت صرف اللہ کے لیے کرنی ہے اور قبرستان کے آداب کو شریعت کے مطابق رکھنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء کی قبروں کو مسجد بنانے سے منع کیا گیا ہے۔
- قبر کا احترام عبادت گاہ بنانے کے برابر نہیں۔
- حدیث کے الفاظ اس عمل کی سنگینی بتاتے ہیں۔
- عبادت کا رخ اللہ ہی کی طرف رہنا چاہیے۔
