صحیح مسلم حدیث ۵۳۱ - پیغام پہنچانے کی گواہی اور جنت کی بشارت
نبی صلى الله عليه وسلم کا پیغام اور امت کے لیے جنت کی امید
صحیح مسلم : ۵۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةِ أَدَمٍ ، فَقَالَ : " أَلَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، أَتُحِبُّونَ أَنَّكُمْ رُبُعُ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ فَقُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَتُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، مَا أَنْتُمْ فِي سِوَاكُمْ مِنَ الأُمَمِ ، إِلَّا كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَبْيَضِ ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَسْوَدِ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
خطبہ پڑھا ہمارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، تو ٹیکا دیا اپنی پیٹھ کو چمڑے کے ڈیرہ پر اور فرمایا: ”کہ خبردار ہو جاؤ، نہ جائے گا کوئی جنت میں مگر وہ جو مسلمان ہیں۔ یا اللہ! میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔ یااللہ! تو گواہ رہ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ جنت کے چوتھائی لوگ تم میں سے ہوں؟“ہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چاہتے ہو کہ جنت کے تہائی لوگ تم میں سے ہوں؟“ سب نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کے نصف ہو گے تم مخالف لوگوں میں ایسے ہو جیسے ایک سیاہ بال سفید بیل میں یا ایک سفید بال سیاہ بیل میں۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ خبردار، جنت میں صرف مسلمان جان داخل ہو گی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اللہ سے عرض کیا کہ اے اللہ! کیا میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ! تو گواہ رہ۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ جنت کے چوتھائی لوگ تم میں سے ہوں؟ پھر تہائی کا ذکر ہوا، اور آخر میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کے نصف ہو گے۔ حدیث میں ایک طرف ایمان کی شرط ہے، دوسری طرف امت کے لیے خوشخبری ہے، اور ساتھ ہی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پیغام پہنچانے کی گواہی بھی بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کو گواہ بنا کر پیغام پہنچانے کا ذکر فرمایا۔
- حدیث میں جنت میں داخلے کے لیے مسلمان ہونے کا ذکر ہے۔
- امت کے لیے جنتیوں کے نصف ہونے کی امید بیان ہوئی۔
- خوشخبری سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے قبولیت اور خوشی کا اظہار کیا۔
