صحیح مسلم حدیث ۵۲۹ - امت محمدیہ کے لیے جنت کی بشارت
امت محمدیہ کے لیے جنت کی بڑی بشارت
صحیح مسلم : ۵۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۹
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، مَا الْمُسْلِمُونَ فِي الْكُفَّارِ ، إِلَّا كَشَعْرَةٍ بَيْضَاءَ فِي ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوْ كَشَعْرَةٍ سَوْدَاءَ فِي ثَوْرٍ أَبْيَضَ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ جنتیوں کے چوتھائی تم میں سے ہوں گے۔“ یہ سن کر ہم نے تکبیر کہی (خوشی کے مارے)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہوتے کہ تہائی جنتیوں کے تم ہو گے۔“ یہ سن کر ہم نے تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ جنتیوں میں آدھے تم لوگ ہو گے اور اس کی وجہ یہ ہے جو میں بیان کرتا ہوں مسلمان کافروں میں ایسے ہیں جیسے ایک سفید بال سیاہ بیل میں ہو یا ایک سیاہ بال سفید بیل میں ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بڑی خوشخبری سنائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا تم خوش نہیں ہو کہ جنتیوں کے چوتھائی تم میں سے ہوں؟ صحابہ نے خوشی میں تکبیر کہی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے تہائی کا ذکر فرمایا، اس پر بھی انہوں نے تکبیر کہی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ جنتیوں میں آدھے تم لوگ ہو گے۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے مسلمانوں کی مثال کافروں کے مقابلے میں سفید یا سیاہ بال کی مثال سے دی۔ حدیث کا پیغام امید، ایمان اور جنت کی بشارت سے متعلق ہے۔ یہاں الفاظ میں امید کا انداز ہے، اس لیے بیان میں بھی اسی نرمی کو برقرار رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے امت کے لیے جنت کی خوشخبری بیان فرمائی۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خوشخبری سن کر تکبیر کہتے تھے۔
- حدیث میں جنتیوں کے چوتھائی، تہائی اور نصف کا ذکر آیا ہے۔
- مسلمانوں کی تعداد کو مثال کے ذریعے سمجھایا گیا۔
