صحیح مسلم حدیث ۵۲۸ - امتوں کا پیش کیا جانا

امتیں پیش ہونے والی حدیث کی دوسری روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۸

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ هُشَيْمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِ .

ابن عباس روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مجھ پر، امتیں پیش کی گئیں“ باقی حدیث وہی ہے جو اوپر گزری ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۲۸ کا خلاصہ

اس روایت کا اصل موضوع امتوں کا پیش کیا جانا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر امتیں پیش کی گئیں، پھر باقی حدیث اوپر والی روایت کے مطابق بیان ہوئی۔ اس حدیث میں یہاں تفصیل دوبارہ نہیں آئی، بلکہ راوی نے اشارہ کیا ہے کہ مضمون وہی ہے جو پچھلی حدیث میں گزر چکا ہے۔ اس لیے اس روایت کی تشریح کرتے وقت ہمیں اسی حد تک بات کرنی چاہیے کہ یہ سابقہ مضمون کی دوسری نقل ہے۔ عام قاری کے لیے اہم بات یہ ہے کہ کبھی حدیث کی کتابوں میں ایک ہی مضمون مختصر لفظوں میں دوبارہ آتا ہے، تاکہ سند اور روایت کا سلسلہ محفوظ رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت سابقہ حدیث کے مضمون کی مختصر تائید ہے۔
  • امتوں کے پیش کیے جانے کا ذکر نبی صلى الله عليه وسلم سے منقول ہے۔
  • کبھی محدثین مکمل متن کے بجائے سابقہ حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
  • تشریح میں اسی قدر بات کرنی چاہیے جتنی متن میں موجود ہو۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں