صحیح مسلم حدیث ۵۲۵ - توکل کرنے والوں کی پہچان
توکل کرنے والے اور بغیر حساب جنت کی بشارت
صحیح مسلم : ۵۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۵
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الأَعْرَجِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، قَالُوا : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : هُمُ الَّذِينَ ، لَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَلَا يَكْتَوُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " .
عمران بن حصین روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ کون ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو نہ منتر کرتے ہیں، نہ بدشگون لیتے ہیں، نہ داغ لگاتے ہیں، اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ جب پوچھا گیا کہ وہ کون ہوں گے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ وہ نہ منتر کرتے ہیں، نہ بدشگون لیتے ہیں، نہ داغ لگاتے ہیں، اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس روایت میں توکل علی اللہ کو نمایاں طور پر بیان کیا گیا ہے۔ بدشگونی سے بچنا بھی اسی مضمون کا حصہ ہے، کیونکہ مومن کا دل اپنے رب پر بھروسہ رکھتا ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ بندہ اپنے رب پر اعتماد رکھے، وہمی باتوں میں نہ پڑے، اور اپنے عمل میں سادگی اور ایمان کا راستہ اپنائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بغیر حساب جنت میں جانے والوں کی صفات حدیث میں بیان ہوئیں۔
- بدشگونی لینا اس روایت میں پسندیدہ راستہ نہیں بتایا گیا۔
- اصل بھروسہ اپنے پروردگار پر ہونا چاہیے۔
- حدیث توکل اور دل کی مضبوطی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
