حدیث ۵۲۷

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۷

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ ؟ قُلْتُ : أَنَا ، ثُمَّ قُلْتُ : أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ ، وَلَكِنِّي لُدِغْتُ ، قَالَ : فَمَاذَا صَنَعْتَ ؟ قُلْتُ : اسْتَرْقَيْتُ ، قَالَ : فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قُلْتُ : حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ ، فَقَالَ : وَمَا حَدَّثَكُمْ الشَّعْبِيُّ ؟ قُلْتُ : حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ ، فَقَالَ : قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ ، وَلَكِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ ، وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي ، فَقِيلَ لِي : هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ وَقَوْمُهُ ، وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ ، فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَقِيلَ لِي : انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ الآخَرِ ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَقِيلَ لِي : هَذِهِ أُمَّتُكَ ، وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَلَا عَذَابٍ ، ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَلَا عَذَابٍ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ ؟ ، فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : هُمُ الَّذِينَ لَا يَرْقُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : أَنْتَ مِنْهُمْ ؟ ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ ،

‏‏‏‏ حصین بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ میں سعید بن جبیر کے پاس تھا۔ انہوں نے کہا کہ تم میں سے کس نے اس ستارہ کو دیکھا جو کل رات کو ٹوٹا تھا۔ میں نے کہا: میں نے دیکھا کہ میں کچھ نماز میں مشغول نہ تھا (اس سے یہ غرض ہے کہ کوئی مجھ کو عابد، شب بیدار نہ خیال کرے) بلکہ مجھے بچھو نے ڈنگ مارا تھا (تو میں سو نہ سکا، اور تارہ ٹوٹتے ہوئے دیکھا)، سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر تو نے کیا کیا؟ میں نے کہا: منتر کرایا میں نے۔ انہوں نے کہا: تو نے منتر کیوں کرایا؟ میں نے کہا: اس حدیث کی وجہ سے جو شعبی رحمہ اللہ نے ہم سے بیان کی انہوں نے کہا: شعبی رحمہ اللہ نے کون سی حدیث بیان کی؟ میں نے کہا: انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: کہ منتر نہیں فائدہ دیتا مگر نظر کیلئے، یا ڈنگ کیلئے (یعنی بدنظر کے اثر کو دور کرنے کیلئے یا بچھو اور سانپ وغیرہ کے کاٹے کیلئے مفید ہے) سعید نے کہا جس نے جو سنا اور اس پر عمل کیا تو اچھا کیا لیکن ہم سے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میرے سامنے پیغمبروں کی امتیں لائی گئیں۔ بعض پیغمبر ایسے تھے کہ ان کی امت کے لوگ دس سے بھی کم تھے اور بعض پیغمبر کے ساتھ ایک یا دو ہی آدمی تھے اور بعض پیغمبر کے ساتھ ایک بھی نہ تھا۔ اتنے میں ایک بڑی امت آئی۔ میں سمجھا کہ یہ میری امت ہے مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ ہیں اور ان کی امت ہے، تم آسمان کے کنارے کو دیکھو، میں نے دیکھا تو ایک اور بڑا گروہ ہے، پھر مجھ سے کہا گیا کہ اب دوسرے کنارے کی طرف دیکھو، دیکھا تو ایک اور بڑا گروہ ہے۔ مجھ سے کہا گیا کہ یہ ہے تمہاری امت اور ان لوگوں میں ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور اپنے گھر تشریف لے گئے تو لوگوں نے گفتگو کی ان لوگوں کے بارے میں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے۔ بعض نے کہا: شاید وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے، بعض نے کہا: نہیں شاید وہ لوگ ہیں جو اسلام کی حالت میں پیدا ہوئے ہیں اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا، بعض نے کہا: کچھ اور۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”تم لوگ کس چیز میں بحث کر رہے ہو؟“ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں، جو نہ منتر کرتے ہیں، نہ منتر رکھتے ہیں، نہ کراتے ہیں، نہ بدشگون لیتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔“ یہ سن کر سیدنا عکاشہ محصن کا بیٹا کھڑا ہوا اور اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھ کو ان لوگوں میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان لوگوں میں سے ہے۔“ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: دعا کیجئے اللہ مجھ کو بھی ان لوگوں میں کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تجھ سے پہلے یہ کام کر چکا۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں