صحیح مسلم حدیث ۵۲۶ - جنت میں داخل ہونے والی جماعت
جنت میں اکٹھے داخل ہونے والی روشن چہروں والی جماعت
صحیح مسلم : ۵۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۶
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا ، أَوْ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفٍ ، لَا يَدْرِي أَبُو حَازِمٍ أَيَّهُمَا ، قَالَ : مُتَمَاسِكُونَ ، آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، لَا يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّى يَدْخُلَ آخِرُهُمْ ، وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " .
سہیل بن سعد روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار یا سات لاکھ (ابوحازم جو راوی ہے اس حدیث کا اس کو یاد نہیں رہا کہ سہل نے ستر ہزار کہا یا سات لاکھ) آدمی جنت میں جائیں گے ایک دوسرے کو پکڑے ہوئے (یعنی ایک کا ہاتھ دوسرے کے ہاتھ میں ہو گا صف باندھے ہوئے تاکہ سب ایک ساتھ جنت میں جائیں)، (اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جنت کا دروازہ کتنا چوڑا ہے) کوئی ان میں سے پہلے جنت میں نہ گھسے گا جب تک اخیر کا شخص نہ گھس جائے اور ان کے منہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی امت کی ایک بڑی جماعت کے جنت میں داخل ہونے کا ذکر فرمایا۔ روایت میں ستر ہزار یا سات لاکھ کے الفاظ آئے ہیں، اور راوی ابو حازم کو یاد نہ رہا کہ کون سا عدد کہا گیا تھا۔ حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ لوگ ایک دوسرے کو پکڑے ہوئے ہوں گے، یعنی ایک ساتھ صف کی صورت میں داخل ہوں گے۔ ان میں سے پہلا شخص اس وقت تک داخل نہ ہو گا جب تک آخری بھی داخل نہ ہو جائے۔ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے۔ یہ حدیث جنت کی بشارت، امت کی فضیلت، اور ایک ساتھ داخل ہونے والی جماعت کا خوبصورت بیان پیش کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں امت کی ایک بڑی جماعت کے جنت میں داخل ہونے کا ذکر ہے۔
- راوی نے عدد کے بارے میں اپنی یادداشت کی بات صاف بیان کی۔
- جنتی جماعت کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے بیان ہوئے۔
- وہ جماعت ایک ساتھ داخل ہونے والی بتائی گئی ہے۔
