صحیح مسلم حدیث ۵۲۲ - ستر ہزار جنتی اور عکاشہ رضی اللہ عنہ

ستر ہزار جنتی اور عکاشہ رضی اللہ عنہ کی دعا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۲

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا ، تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الأَسَدِيُّ ، يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .

ابوہریرہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میری امت میں سے ستر ہزار کی ایک جماعت جنت میں جائے گی جن کے منہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔“سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا یہ سن کر عکاشہ بن محصن اسدی کھڑا ہوا اور اپنا کمبل اٹھاتا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! دعا کیجئے مجھ کو اللہ ان لوگوں میں سے کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو اس کو ان لوگوں میں سے کر دے۔“ پھر ایک شخص اور انصار میں سے کھڑا ہوا اور بولا: یا رسول اللہ! دعا فرمائیے کہ اللہ مجھ کو بھی ان لوگوں میں سے کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات تجھ سے پہلے عکاشہ کر چکا۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع ستر ہزار جنتی ہیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار کی ایک جماعت جنت میں جائے گی، جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ یہ بات سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ فوراً کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کر دے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر ایک اور انصاری شخص نے بھی یہی درخواست کی، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ بات تم سے پہلے عکاشہ کر چکے۔ اس حدیث میں جنت کی بشارت، نیک لوگوں میں شامل ہونے کی خواہش، اور دعا کی قدر صاف نظر آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جنت میں جانے والی ایک خاص جماعت کے چہرے بہت روشن ہوں گے۔
  • نیک لوگوں میں شامل ہونے کی دعا کرنا اچھی خواہش ہے۔
  • عکاشہ رضی اللہ عنہ نے خیر کی بات سن کر فوراً دعا کی درخواست کی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے دوسرے شخص کو مختصر جواب دیا، جس میں حکمت تھی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں