صحیح مسلم حدیث ۵۳۰ - جنت میں مسلمان ہی داخل ہوگا

جنت میں داخلہ اور ایمان کی شرط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ ، نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا ، فَقَالَ : أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ قُلْنَا : نَعَمْ ، فَقَالَ : أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ فَقُلْنَا : نَعَمْ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ ، إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَحْمَرِ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک خیمہ میں جس میں قریب چالیس آدمیوں کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ جنتیوں کے چوتھائی تم لوگ ہو۔“ ہم نے کہا: ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بات سے خوش ہو کہ جنتیوں کے ایک تہائی تم ہو۔“ ہم نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔ مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کے آدھے ہو گے اور یہ اس لئے کہ جنت میں وہی جائے گا جو مسلمان ہے اور مسلمان مشرکوں کے اندر ایسے ہیں جیسے ایک سفید بال سیاہ بیل کی کھال میں ہو یا ایک سیاہ بال لال بیل کی کھال میں ہو۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۳۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا تم خوش ہو کہ جنتیوں کے چوتھائی تم ہو؟ انہوں نے کہا ہاں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے تہائی کا پوچھا، صحابہ نے پھر خوشی ظاہر کی۔ آخر میں آپ صلى الله عليه وسلم نے قسم کھا کر فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کے آدھے ہو گے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے وجہ بیان کی کہ جنت میں وہی جان داخل ہو گی جو مسلمان ہے۔ اس حدیث میں ایمان، جنت کی امید، اور امت کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم کی خوش خبری صاف بیان ہوتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں جنت میں مسلمان جان کے داخل ہونے کا ذکر ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے امت کے لیے جنت کی بڑی امید بیان فرمائی۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنت کی بشارت سن کر خوش ہوئے۔
  • حدیث میں مثال دے کر مسلمانوں کی حالت سمجھائی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں