سنن نسائی حدیث ۲۰۴۹ - یہود و نصاریٰ کی غلطی

انبیاء کی قبروں کو مسجد بنانے کی تنبیہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۴۹

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى صَاعِقَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائی ہے (کیونکہ) ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا“۔

سنن نسائی حدیث ۲۰۴۹ کا خلاصہ

اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائی، کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ اس حدیث میں ایک واضح سبق ہے کہ پچھلی قوموں کی غلطی سے بچا جائے۔ قبروں کے ساتھ محبت یا احترام کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں عبادت گاہ بنا دیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو سخت انداز میں بیان فرمایا، اس لیے مسلمان کو قبرستان، مزارات اور قبروں کے معاملے میں بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ اصل عبادت اللہ کے لیے ہے، اور قبروں کے بارے میں ادب شریعت کی حد میں رہ کر ہونا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پچھلی قوموں کی غلطی سے مسلمانوں کو بچنا چاہیے۔
  • قبروں کو مسجد بنانا سخت منع عمل ہے۔
  • قبر کا احترام شریعت کی حد کے اندر ہونا چاہیے۔
  • عبادت کو قبروں سے وابستہ نہیں کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں