سنن نسائی حدیث ۲۰۶۱ - قبروں میں عذاب کی آواز
قبروں میں عذاب کا ذکر
سنن نسائی : ۲۰۶۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۶۱
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا , فَقَالَ : " يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا " .
ابوایوب انصاری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈوبنے کے بعد نکلے، تو ایک آواز سنی، آپ نے فرمایا: ”یہود اپنی قبروں میں عذاب دیئے جا رہے ہیں“۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈوبنے کے بعد باہر نکلے، ایک آواز سنی، اور فرمایا کہ یہود اپنی قبروں میں عذاب دیے جا رہے ہیں۔ روایت مختصر ہے، اس لیے اس سے زیادہ تفصیل بیان نہیں کی جاتی۔ اصل بات یہ ہے کہ عذاب قبر کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے آیا ہے، اور یہ انسان کو آخرت کی فکر دلاتا ہے۔ ایسی احادیث پڑھ کر مسلمان کو دوسروں کے انجام پر بحث کرنے کے بجائے اپنے ایمان، عمل اور توبہ کی فکر کرنی چاہیے۔ قبر کا مرحلہ ہر انسان کے لیے آنے والا ہے، اس لیے غفلت کے بجائے سنجیدگی بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عذاب قبر کا ذکر حدیث میں صاف طور پر آیا ہے۔
- غیبی معاملات میں نبی صلى الله عليه وسلم کی خبر پر ایمان رکھا جاتا ہے۔
- ایسی روایات انسان کو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
- قبر اور آخرت کی فکر غفلت کم کرتی ہے۔
