سنن نسائی حدیث ۲۰۶۰ - عذاب قبر سننے کا معاملہ

عذاب قبر کی آواز اور انسان کی کمزوری

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۶۰

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ , فَقَالَ : " مَتَى مَاتَ هَذَا ؟ " قَالُوا مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ " .

انس روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قبر سے ایک آواز سنی تو پوچھا: ”یہ کب مرا ہے؟“ لوگوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں مرا ہے، آپ اس بات سے خوش ہوئے، اور فرمایا: ”اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر سنا دے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۰۶۰ کا خلاصہ

اس روایت میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر سے آواز سنی۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کب مرا؟ لوگوں نے بتایا کہ زمانہ جاہلیت میں مرا ہے، تو آپ اس بات سے خوش ہوئے۔ پھر فرمایا کہ اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر سنا دے۔ اس حدیث میں عذاب قبر کی حقیقت کا ذکر ہے اور ساتھ انسان کی کمزوری بھی سامنے آتی ہے۔ اگر لوگ اسے سن لیتے تو ممکن تھا کہ خوف سے تدفین ہی چھوڑ دیں۔ اس لیے اللہ نے بہت سی چیزیں ہماری سماعت سے پوشیدہ رکھی ہیں، مگر ایمان کا تقاضا ہے کہ نصیحت لی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عذاب قبر ایک حقیقی معاملہ ہے۔
  • انسان ہر غیبی حقیقت کو سننے یا برداشت کرنے کے قابل نہیں۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے امت کے حال کا خیال فرمایا۔
  • قبر کا ذکر انسان کو غفلت سے نکالنے کے لیے کافی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں