سنن نسائی حدیث ۲۰۵۹ - رب کون ہے؟ قبر کا سوال
قبر میں رب اور دین کے سوال کا جواب
سنن نسائی : ۲۰۵۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۵۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 , قَالَ : نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ يُقَالُ لَهُ مَنْ رَبُّكَ , فَيَقُولُ : رَبِّيَ اللَّهُ ، وَدِينِي دِينُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ " .
براء بن عازب روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت (دونوں میں) ٹھیک بات پر قائم رکھے گا“۔ عذاب قبر کے سلسلے میں اتری ہے۔ میت سے پوچھا جائے گا: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا: میرا رب اللہ ہے، میرا دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے۔ اللہ کے قول: «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» سے یہی مراد ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت کی وضاحت فرمائی کہ یہ عذاب قبر کے سلسلے میں اتری ہے۔ میت سے پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ مومن جواب دے گا کہ میرا رب اللہ ہے، اور میرا دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے۔ حدیث میں یہی بات اللہ کے قول ثابت سے جوڑی گئی ہے۔ اس روایت کا پیغام بہت واضح ہے کہ قبر کے سوال میں کامیابی صرف زبان کی عادت نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ثابت قدمی ہے۔ مسلمان کو دنیا میں اپنے رب، دین اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پہچان کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے، تاکہ آخرت کے مرحلے میں اللہ کی مدد شامل حال ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبر میں رب کے بارے میں سوال ہوگا۔
- مومن اللہ کو اپنا رب اور محمد صلى الله عليه وسلم کے دین کو اپنا دین کہے گا۔
- ثابت قدمی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔
- دنیا میں ایمان کی پہچان آخرت کے جواب سے جڑی ہے۔
