سنن نسائی حدیث ۲۰۵۸ - قول ثابت اور عذاب قبر
قول ثابت کا تعلق عذاب قبر سے
سنن نسائی : ۲۰۵۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۵۸
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 , قَالَ : " نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ " .
براء بن عازب روایت:
آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ٹھیک بات پر قائم رکھے گا“ (ابراہیم: ۲۷)۔ عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۵۸ کا خلاصہ
اس روایت میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے آیت يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة کے بارے میں بتایا کہ یہ عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی۔ حدیث کا اصل موضوع قول ثابت ہے، یعنی ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ درست بات پر قائم رکھتا ہے۔ روایت میں اس کی تفصیل نہیں دی گئی، مگر اگلی روایت میں قبر کے سوال کا ذکر آتا ہے۔ یہاں ہمیں اتنا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی یہ آیت قبر کے مرحلے سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ مسلمان کے لیے یہ بڑی امید کی بات ہے کہ ثابت قدمی اللہ کی مدد سے ملتی ہے، مگر انسان کو ایمان کی سچائی اور آخرت کی تیاری کی فکر کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قول ثابت کا تعلق قبر کے مرحلے سے بیان ہوا ہے۔
- ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ ثابت قدمی عطا فرماتا ہے۔
- عذاب قبر ایک سنجیدہ حقیقت کے طور پر ذکر ہوا ہے۔
- آخرت کی تیاری کے لیے درست ایمان ضروری ہے۔
