سنن نسائی حدیث ۲۰۵۷ - عرش کا ہلنا اور قبر کی گرفت
قبر کی گرفت اور اللہ کا فضل
سنن نسائی : ۲۰۵۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۵۷
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً ، ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی وہ شخص ہے جس کے لیے عرش الٰہی ہل گیا، آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے، اور ستر ہزار فرشتے اس کے جنازے میں شریک ہوئے، (پھر بھی قبر میں) اسے ایک بار بھینچا گیا، پھر (یہ عذاب) اس سے جاتا رہا“ ۱؎۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بارے میں فرمایا کہ اس کے لیے عرش الٰہی ہل گیا، آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور ستر ہزار فرشتے اس کے جنازے میں شریک ہوئے۔ پھر فرمایا کہ اسے قبر میں ایک بار بھینچا گیا، پھر یہ کیفیت اس سے دور کر دی گئی۔ روایت میں نام نہیں آیا، اس لیے وضاحت صرف حدیث کے الفاظ تک رکھی جاتی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بندے کی بڑی فضیلت کے باوجود قبر کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر آسانی بھی فرماتا ہے۔ یہ حدیث انسان کو عاجزی، خوف اور امید کے درمیان رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبر کا مرحلہ نہایت سنجیدہ ہے۔
- بڑی فضیلت کے باوجود بندہ اللہ کا محتاج رہتا ہے۔
- اللہ تعالیٰ سختی کے بعد آسانی عطا فرما سکتا ہے۔
- فرشتوں کی شرکت اور آسمان کے دروازوں کا کھلنا خاص فضیلت ہے۔
