سنن نسائی حدیث ۲۰۵۶ - شہادت کی چند صورتیں
طاعون، ڈوبنا اور زچگی میں وفات کی فضیلت
سنن نسائی : ۲۰۵۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۵۶
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : " الطَّاعُونُ ، وَالْمَبْطُونُ ، وَالْغَرِيقُ ، وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ " , قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ مِرَارًا ، وَرَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
صفوان بن امیہ روایت:
طاعون سے مرنے والا، پیٹ کے مرض میں مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، اور زچگی کی وجہ سے مرنے والی عورت شہید ہے۔ وہ (تیمی) کہتے ہیں: ہم سے ابوعثمان نے بارہا بیان کیا، ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مرفوع بیان کیا۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۵۶ کا خلاصہ
اس روایت میں صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے نقل ہے کہ طاعون سے مرنے والا، پیٹ کے مرض میں مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا اور زچگی کی وجہ سے وفات پانے والی عورت شہید ہے۔ روایت کے آخر میں یہ بھی ذکر ہے کہ ابوعثمان نے اسے کئی بار بیان کیا اور ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کیا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ بعض تکلیف دہ اموات کے بارے میں شہادت کی فضیلت آئی ہے۔ ہمیں اس سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید ملتی ہے، مگر ہر معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ مسلمان ایسی روایات کو سن کر میت کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے اور اپنی زندگی کو درست رکھنے کی فکر کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بعض تکلیف دہ اموات کے بارے میں شہادت کی فضیلت آئی ہے۔
- طاعون، پیٹ کا مرض، ڈوبنا اور زچگی روایت میں مذکور ہیں۔
- میت کے بارے میں خیر کی امید اور دعا مناسب رویہ ہے۔
- آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
