سنن نسائی حدیث ۲۰۵۵ - شہید کا فتنہ قبر
شہید کے لیے تلواروں کی آزمائش کافی ہے
سنن نسائی : ۲۰۵۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۵۵
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ , عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَجُلًا , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا بَالُ الْمُؤْمِنِينَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ إِلَّا الشَّهِيدَ ، قَالَ : " كَفَى بِبَارِقَةِ السُّيُوفِ عَلَى رَأْسِهِ فِتْنَة " .
´ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے؟ سبھی اہل ایمان اپنی قبروں میں آزمائے جاتے ہیں، سوائے شہید کے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کے سروں پر چمکتی تلوار کی آزمائش کافی ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اہل ایمان اپنی قبروں میں آزمائے جاتے ہیں، مگر شہید کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اس کے سر پر چمکتی تلواروں کی آزمائش کافی ہے۔ اس جواب میں شہید کے مقام کی طرف اشارہ ہے، مگر روایت کا دائرہ اسی سوال اور جواب تک محدود ہے۔ یہاں شہید کی بہادری یا جنگ کی پوری تفصیل نہیں، بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس نے ایسی سخت آزمائش کا سامنا کیا جو اس کے لیے کافی ہے۔ اس حدیث سے قبر کے فتنہ کی حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ بعض بندوں کے لیے خاص معاملہ فرماتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبر کا فتنہ اہل ایمان کے لیے ایک حقیقی مرحلہ ہے۔
- شہید نے زندگی میں بڑی آزمائش کا سامنا کیا ہوتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سوال کا مختصر اور واضح جواب دیا۔
- شہید کے بارے میں خاص فضیلت اسی روایت میں بیان ہوئی ہے۔
