سنن نسائی حدیث ۲۰۵۴ - پیٹ کے مرض سے مرنے والا
پیٹ کے مرض سے وفات اور قبر کا معاملہ
سنن نسائی : ۲۰۵۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۵۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ، وخَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، فَذَكَرُوا : أَنَّ رَجُلا تُوُفِّيَ مَاتَ بِبَطْنِهِ ، فَإِذَا هُمَا يَشْتَهِيَانِ أَنْ يَكُونَا شُهَدَاءَ جِنَازَتِهِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ : أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَقْتُلْهُ بَطْنُهُ فَلَنْ يُعَذَّبَ فِي قَبْرِهِ " , فَقَالَ الْآخَرُ : بَلَى .
عبداللہ بن یسار روایت:
میں بیٹھا ہوا تھا اور (وہیں) سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہٰ رضی اللہ عنہما (بھی) موجود تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ ایک آدمی اپنے پیٹ کے عارضہ میں وفات پا گیا ہے، تو ان دونوں نے تمنا کی کہ وہ اس کے جنازے میں شریک ہوں، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا ہے کہ ”جو پیٹ کے عارضہ میں مرے اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“، تو دوسرے نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے ایسا فرمایا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۵۴ کا خلاصہ
اس روایت میں ایک شخص کا ذکر ہوا جو پیٹ کے عارضہ میں وفات پا گیا۔ سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہما نے تمنا کی کہ وہ اس کے جنازے میں شریک ہوتے۔ پھر ایک نے دوسرے کو یاد دلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جسے اس کا پیٹ مار دے، اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ دوسرے نے اس کی تصدیق کی۔ اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ بعض تکلیف دہ اموات کے بارے میں خاص فضیلت آئی ہے۔ روایت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ مسلمان جنازے میں شرکت کی خواہش رکھتا ہے اور میت کے بارے میں خیر کی بات یاد کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیٹ کے عارضہ سے مرنے والے کے بارے میں خاص فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- میت کے جنازے میں شرکت کی خواہش نیکی کا جذبہ ہے۔
- صحابہ کرام حدیث کو یاد کر کے ایک دوسرے کو خیر کی بات بتاتے تھے۔
- موت کے بعد کے معاملے میں اللہ کی رحمت کی امید رکھی جاتی ہے۔
