سنن نسائی حدیث ۲۰۵۳ - مومن اور کافر کا جواب

قبر میں مومن، کافر اور منافق کا جواب

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۵۳

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ , فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ , فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ , فَيُقَالُ لَهُ : انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا خَيْرًا مِنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا وَأَمَّا الْكَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ , فَيُقَالُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ، فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، كُنْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُولُ النَّاسُ ، فَيُقَالُ لَهُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ ، ثُمَّ يُضْرَبُ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ " .

انس روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے، (پھر) دو فرشتے آتے ہیں، (اور) اسے بٹھاتے ہیں (پھر) اس سے پوچھتے ہیں: تم اس شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ رہا مومن تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، (پھر) اس سے کہا جاتا ہے تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے بدلے ایک اچھا ٹھکانا دیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ ان دونوں (جنت و جہنم) کو ایک ساتھ دیکھتا ہے، اور رہا کافر یا منافق تو اس سے پوچھا جاتا ہے: اس شخص (محمد) کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟، تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو اس سے کہا جائے گا: نہ تم نے خود جاننے کی کوشش کی، اور نہ جانکار لوگوں کی پیروی کی، پھر اس کے دونوں کانوں کے بیچ ایک ایسی مار ماری جاتی ہے کہ وہ ایسے زور کی چیخ مارتا ہے جسے انسان اور جنات کے علاوہ جو بھی اس کے قریب ہوتے ہیں سبھی سنتے ہیں“۔

سنن نسائی حدیث ۲۰۵۳ کا خلاصہ

یہ روایت قبر کے سوال کو مزید تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ بندہ قبر میں رکھا جاتا ہے، لوگ واپس جاتے ہیں، وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے، پھر دو فرشتے آ کر اسے بٹھاتے ہیں۔ مومن سے پوچھا جاتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے تھے، تو وہ گواہی دیتا ہے کہ آپ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اسے جہنم کا ٹھکانا دکھا کر بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے اس کے بدلے بہتر ٹھکانا دیا۔ کافر یا منافق جواب دیتا ہے کہ میں نہیں جانتا، جو لوگ کہتے تھے وہی کہتا تھا۔ پھر اسے سخت سزا دی جاتی ہے۔ یہ حدیث اندھی پیروی کے بجائے سچے ایمان کی اہمیت بتاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قبر میں ایمان کا جواب زبان سے ظاہر ہوگا۔
  • صرف لوگوں کی بات دہرانا کافی نہیں، سچا ایمان ضروری ہے۔
  • مومن کو اللہ کے فضل سے بہتر ٹھکانا دکھایا جائے گا۔
  • کافر یا منافق کا جواب اس کی غفلت کو ظاہر کرے گا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں