صحیح بخاری حدیث ۳۸۰۳ - سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت
سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور عرش رحمن کا ہلنا
صحیح بخاری : ۳۸۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۸۰۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا فَضْلُ بْنُ مُسَاوِرٍ خَتَنُ أَبِي عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ " . وَعَنْ الْأَعْمَشِ , حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ , عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، فَقَالَ : رَجُلٌ لِجَابِرٍ فَإِنَّ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : اهْتَزَّ السَّرِيرُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ كَانَ بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَيَّيْنِ ضَغَائِنُ , سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ " .
جابر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش ہل گیا اور اعمش سے روایت ہے، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا، ایک صاحب نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ براء رضی اللہ عنہ تو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ چارپائی جس پر معاذ رضی اللہ عنہ کی نعش رکھی ہوئی تھی، ہل گئی تھی، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ان دونوں قبیلوں (اوس اور خزرج) کے درمیان (زمانہ جاہلیت میں) دشمنی تھی، میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش رحمن ہل گیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۸۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش رحمن ہل گیا۔ اس میں ان کے مقام کا بہت بڑا بیان ہے، مگر ہمیں بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے جو حدیث میں آئی ہے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ ایک شخص نے جابر رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت کا ذکر کیا، مگر جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے سننے کو واضح کیا۔ اس لیے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث، عرش رحمن کا ہلنا، اور صحابہ کی فضیلت جیسے الفاظ اس روایت کا اصل پیغام سمجھاتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا مقام اس حدیث میں خاص طور پر بیان ہوا ہے۔
- دینی بات میں راوی نے وہی بات بیان کی جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت کو حدیث کے الفاظ کے مطابق ماننا چاہیے۔
- اختلافی نقل کے وقت اصل سنی ہوئی بات کو واضح کرنا علمی امانت ہے۔
