صحیح بخاری حدیث ۳۸۰۴ - سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ

سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ اور عدل کی گواہی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۸۰۴

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ أُنَاسًا نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ , فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ فَلَمَّا بَلَغَ قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُومُوا إِلَى خَيْرِكُمْ أَوْ سَيِّدِكُمْ ، فَقَالَ : " يَا سَعْدُ إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ " ، قَالَ : فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ ، قَالَ : " حَكَمْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ أَوْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ " .

ابو سعید خدری روایت:

ایک قوم (یہود بنی قریظہ) نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا گیا اور وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب پہنچے جسے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام جنگ میں) نماز پڑھنے کے لیے منتخب کیا ہوا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے سب سے بہتر شخص کے لیے یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا) اپنے سردار کو لینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سعد! انہوں نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے جو لوگ جنگ کرنے والے ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو جنگی قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) فرشتے کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۸۰۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع فیصلہ اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ ایک قوم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیے۔ جب وہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے بہتر شخص یا سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں فیصلہ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا، یا فرشتے کے حکم کے مطابق۔ اس حدیث میں سعد بن معاذ کا فیصلہ، بنو قریظہ کا واقعہ، اور عدل کے ساتھ فیصلہ جیسے اہم الفاظ آتے ہیں۔ ہمیں اس روایت کو اسی واقعے تک محدود رکھ کر سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جب کسی کو ثالث مانا جائے تو فیصلہ ذمہ داری کے ساتھ کرنا چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کے مقام کو صحابہ کے سامنے ظاہر فرمایا۔
  • حدیث میں سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے کی تصدیق بیان ہوئی ہے۔
  • بڑے فیصلوں میں حق اور عدل کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں