سنن نسائی حدیث ۲۱۱۴ - چاند کی گواہی پر روزہ
رمضان کا چاند دیکھنے کی گواہی والی حدیث
سنن نسائی : ۲۱۱۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۱۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : رَأَيْتُ الْهِلَالَ ، فَقَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ : نَعَمْ ، فَنَادَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صُومُوا .
عبداللہ بن عباس روایت:
ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (اور) کہنے لگا: میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے کہا: ”کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا۔ اس روایت میں رمضان کے چاند کی خبر، گواہی اور اجتماعی اعلان کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کا آغاز ذاتی اندازے سے نہیں بلکہ معتبر خبر اور اعلان کے ساتھ ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کے چاند کی گواہی کو سنجیدگی سے لیا گیا۔
- گواہی دینے والے کے مسلمان ہونے کی تصدیق کی گئی۔
- روزے کا اعلان نبی صلى الله عليه وسلم نے لوگوں میں کروایا۔
