سنن نسائی حدیث ۲۱۴۹ - سحری کھانے کی فضیلت
سحری کھانا روزے کا برکت والا عمل
سنن نسائی : ۲۱۴۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۴۹
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَرِيرٍ نَسَائِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَحَّرُوا ، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۴۹ کا خلاصہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ یہ حدیث سحری کی فضیلت کو بہت صاف لفظوں میں بیان کرتی ہے۔ روزہ رکھنے والا شخص جب سحری کرتا ہے تو وہ ایک ایسے عمل کو اختیار کرتا ہے جس کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی فرمائی۔ حدیث میں سحری کے لیے لمبی شرطیں بیان نہیں ہوئیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ سحری کو چھوڑنے کے بجائے اسے برکت والا عمل سمجھ کر کیا جائے۔ رمضان کی سحری، روزے کی نیت، صبح صادق سے پہلے کھانا اور سحری کی اہمیت جیسے موضوعات اسی تعلیم سے متعلق ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سحری کھانے کی ترغیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
- سحری میں برکت ہے، جیسا کہ حدیث میں صاف آیا ہے۔
- روزہ رکھنے والے کو سحری کو معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔
