سنن نسائی حدیث ۲۱۵۰ - سحری میں خیر
سحری میں برکت اور روایت کی نقل
سنن نسائی : ۲۱۵۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۵۰
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " تَسَحَّرُوا ، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً " , رَفَعَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى .
ابوہریرہ روایت:
سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۵۰ کا خلاصہ
اس روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ذکر ہے کہ ابن ابی لیلیٰ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ اس سے حدیث کے متن کے ساتھ روایت کے طریقے کی بات بھی سامنے آتی ہے۔ اصل تعلیم بہت واضح ہے کہ سحری روزے سے پہلے ایک برکت والا عمل ہے۔ روزہ رکھنے والے کے لیے سحری کی اہمیت، رمضان میں سحری، اور سحری کھانے کی فضیلت اسی حدیث سے سمجھی جاتی ہے۔ اس روایت میں زیادہ تفصیل نہیں، اس لیے اس سے بس اتنی بات لی جائے کہ سحری کو پسندیدہ اور برکت والا عمل سمجھ کر اختیار کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سحری کھانے کی ترغیب اس روایت میں موجود ہے۔
- سحری میں برکت کا ذکر صاف الفاظ میں آیا ہے۔
- حدیث نقل کرتے وقت مرفوع یا غیر مرفوع ہونے کی وضاحت اہم ہے۔
