سنن نسائی حدیث ۲۱۵۱ - سحری کی سنت
سحری کھانا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ترغیب
سنن نسائی : ۲۱۵۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۵۱
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَسَحَّرُوا ، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ یہ جملہ بہت مختصر ہے، مگر روزہ رکھنے والے کے لیے مکمل رہنمائی رکھتا ہے۔ سحری کی سنت، سحری کی فضیلت، رمضان کی سحری اور روزے سے پہلے کھانے کی اہمیت جیسے سوالات کا جواب اسی حدیث میں ملتا ہے۔ حدیث میں سحری کو صرف جسمانی مدد کے طور پر نہیں، بلکہ برکت والے عمل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ہمیں اس متن سے آگے بڑھ کر ایسی باتیں نہیں جوڑنی چاہئیں جو یہاں نہیں آئیں۔ اصل بات یہ ہے کہ روزہ رکھنے والا سحری کو اپنائے اور اسے خیر والا عمل سمجھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کھانے کی ترغیب دی۔
- سحری میں برکت ہے، اس لیے اسے اہم سمجھنا چاہیے۔
- حدیث مختصر ہو تب بھی اس کی تعلیم بہت واضح ہو سکتی ہے۔
