سنن نسائی حدیث ۲۱۵۲ - سحری کی برکت
روزے سے پہلے سحری میں برکت ہے
سنن نسائی : ۲۱۵۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۵۲
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۵۲ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ یہ تعلیم روزے کے عمل کو آسان اور بابرکت انداز سے اپنانے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ سحری کی فضیلت کے بارے میں یہ حدیث عام لوگوں کے لیے بہت معروف ہے، کیونکہ اس کے الفاظ مختصر اور یاد رکھنے میں آسان ہیں۔ رمضان میں سحری، روزے کی تیاری، سحری کا وقت اور سحری کی اہمیت جیسے موضوعات اس روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔ حدیث میں برکت کا ذکر ہے، اس لیے ہمیں یہی کہنا چاہیے کہ سحری خیر اور بھلائی کا ذریعہ ہے۔ اس میں ایسی تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے جو متن میں موجود نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سحری کھانا روزے سے پہلے پسندیدہ عمل ہے۔
- حدیث کے مطابق سحری میں برکت رکھی گئی ہے۔
- دین کی آسان تعلیمات کو عمل میں لانا چاہیے۔
