سنن نسائی حدیث ۲۱۵۷ - سحری سے فجر تک وقفہ

سحری اور فجر کے درمیان پچاس آیتوں کا وقفہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۵۷

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : " تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ ، قُلْتُ : كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً " .

انس روایت:

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم اٹھ کر نماز کے لیے گئے، انس کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا (وقفہ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔

سنن نسائی حدیث ۲۱۵۷ کا خلاصہ

اس روایت میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر نماز کے لیے اٹھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ سحری اور نماز کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ جواب ملا کہ اتنا جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔ یہ حدیث سحری کا وقت، سحری میں تاخیر، اور فجر کی نماز کے قریب سحری کے موضوع پر بہت اہم ہے۔ روایت میں وقت کو گھڑی کے منٹوں سے نہیں بلکہ قرآن کی تلاوت کے اندازے سے بیان کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سحری نماز فجر سے بہت پہلے ختم نہیں کی گئی بلکہ اس کے بعد نماز کے لیے اٹھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کے بعد نماز کے لیے اٹھا گیا۔
  • سحری اور نماز کے درمیان پچاس آیتیں پڑھنے جتنا وقفہ بیان ہوا۔
  • وقت کا اندازہ روایت میں آسان اور عملی انداز سے بتایا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں