سنن نسائی حدیث ۲۲۱۲ - فرض روزہ اور قیام
رمضان کے فرض روزے اور سنت قیام
سنن نسائی : ۲۲۱۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۱۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ ، سَمِعَهُ أَبُوكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْسَ بَيْنَ أَبِيكَ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، قَالَ : نَعَمْ , حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ عَلَيْكُمْ ، وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
نضر بن شیبان روایت:
´نضر بن شیبان کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے کہا کہ` آپ مجھ سے ماہ رمضان کے متعلق کوئی ایسی بات بیان کریں جو آپ نے اپنے والد (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) سے سنی ہو، اور اسے آپ کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہو، آپ کے والد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ کوئی اور حائل نہ ہو۔انہوں نے کہا: اچھا سنو! مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے فرض کیے ہیں، اور میں نے تمہارے لیے اس میں قیام کرنے کو سنت قرار دیا ہے اس میں جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھے گا اور (عبادت پر) کمربستہ ہو گا تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۲۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رمضان کے بارے میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کیے۔ دوسری یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے قیام کو امت کے لیے سنت قرار دیا۔ پھر فرمایا کہ جو شخص رمضان کا روزہ رکھے اور اس میں قیام کرے، ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ، وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔ اس روایت میں رمضان کے روزے، نماز تراویح، قیام رمضان اور ایمان و احتساب کا مضمون جمع ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ روزہ فرض عبادت ہے، جبکہ قیام رمضان ایک بڑی سنت اور فضیلت والا عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کیے ہیں۔
- رمضان کا قیام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
- روزہ اور قیام دونوں ایمان و ثواب کی نیت سے ادا کیے جائیں۔
- رمضان بندے کے لیے گناہوں سے پاکی کا خاص موقع ہے۔
