سنن نسائی حدیث ۲۲۴۴ - نوجوانوں کے لیے نکاح کی نصیحت
اے نوجوانو! نکاح نگاہ کی حفاظت ہے
سنن نسائی : ۲۲۴۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۴۴
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَمَعَنَا عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ وَجَمَاعَةٌ ، فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثٍ مَا رَأَيْتُهُ حَدَّثَ بِهِ الْقَوْمَ ، إِلَّا مِنْ أَجْلِي لِأَنِّي كُنْتُ أَحْدَثَهُمْ سِنًّا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ " , قَالَ عَلِيٌّ : وَسُئِلَ الْأَعْمَشِ عَنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ , قَالَ : نَعَمْ .
عبدالرحمٰن بن یزید روایت:
ہم عبداللہ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ علقمہ، اسود اور ایک جماعت تھی، تو انہوں نے ہم سے ایک حدیث بیان کی، اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے وہ حدیث میرے ہی لیے بیان کی تھی کیونکہ میں ان لوگوں میں سب سے زیادہ نوعمر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے“۔علی بن ہاشم (راوی) کہتے ہیں کہ اعمش سے ابراہیم والی روایت کے بارے میں پوچھا گیا، سائل نے پوچھا: «عن إبراهيم عن علقمة عن عبداللہ» اسی کے مثل مروی ہے، اعمش نے کہا: ہاں۔
سنن نسائی حدیث ۲۲۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں خطاب خاص طور پر نوجوانوں سے ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس مجلس میں بیان کی جہاں ایک نوعمر شخص بھی موجود تھا۔ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہو، وہ نکاح کر لے۔ وجہ بھی صاف بیان ہوئی کہ نکاح نگاہ کو زیادہ نیچا رکھنے والا اور شرمگاہ کو زیادہ محفوظ رکھنے والا ہے۔ اس روایت میں “نوجوانوں کے لیے نکاح”، “نگاہ کی حفاظت” اور “شرمگاہ کی حفاظت” بنیادی الفاظ ہیں۔ حدیث نوجوان کو صرف خواہش سے نہیں، بلکہ ذمہ داری اور پاکیزگی سے جوڑتی ہے۔ اس میں روزہ کا حصہ اس روایت کے ترجمہ میں نہیں آیا، اس لیے یہاں اصل زور نکاح پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نوجوانوں کو پاکیزہ زندگی کے لیے نکاح کی طرف رہنمائی دی گئی ہے۔
- نکاح کے لیے نان و نفقہ کی طاقت کو دیکھا گیا ہے۔
- نکاح نگاہ نیچی رکھنے میں مددگار ہے۔
- شرمگاہ کی حفاظت کے لیے جائز راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
