سنن نسائی حدیث ۲۲۴۳ - شادی نہ ہو تو روزہ لازم
شادی کی طاقت نہ ہو تو روزہ رکھنا
سنن نسائی : ۲۲۴۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۴۳
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے، تو وہ شادی کر لے اور جو نہ رکھے، وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے، کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۲۴۳ کا خلاصہ
اس روایت میں نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے بہت سادہ انداز میں دو راستے بتائے۔ جس کے پاس نان و نفقہ کی طاقت ہو، وہ شادی کرے۔ اور جس کے پاس یہ طاقت نہ ہو، وہ اپنے اوپر روزہ لازم کرے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام “شادی کی طاقت” اور “روزہ سے شہوت کم کرنا” ہے۔ یہاں روزہ کو ایسے شخص کے لیے علاج بتایا گیا ہے جو نکاح کے اخراجات یا ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر حال میں فوراً شادی لازم ہے، بلکہ طاقت کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اسی طرح روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں، بلکہ نفس کو قابو میں رکھنے کا عملی ذریعہ بھی ہے۔ اس لیے یہ روایت نوجوانوں کے لیے خاص طور پر بہت رہنمائی رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح کی ذمہ داری اٹھانے کی طاقت ہو تو شادی بہتر راستہ ہے۔
- شادی کی طاقت نہ ہو تو روزہ نفس کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
- اسلام خواہشات کو بے قابو چھوڑنے کے بجائے پاکیزہ راستہ بتاتا ہے۔
- دینی حکم انسان کی استطاعت کو سامنے رکھتا ہے۔
