سنن نسائی حدیث ۲۲۴۸ - ایک روزہ جہنم سے دوری کا سبب
روزے کا اجر: جہنم سے ستر سال دوری
سنن نسائی : ۲۲۴۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۴۸
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ عزوجل اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۲۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا، اللہ عزوجل اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا۔ یہاں روزہ کی فضیلت بہت مختصر مگر بہت مضبوط الفاظ میں آئی ہے۔ “روزے کا اجر”، “جہنم سے ستر سال دوری” اور “اللہ کی راہ میں روزہ” اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ حدیث میں چہرے کو آگ سے دور کرنے کا ذکر ہے، جو آخرت کی نجات کی امید کو بڑھاتا ہے۔ اس میں شرط یہی ہے کہ روزہ اللہ کی راہ میں ہو۔ اس لیے اس روایت کا پیغام نیت، صبر اور اللہ کے لیے قربانی سے جڑا ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کا اجر بہت بڑا بتایا گیا ہے۔
- حدیث کے مطابق ایک روزہ جہنم سے ستر سال دوری کا سبب بنتا ہے۔
- روزے کا اصل وزن اللہ کے لیے ہونے میں ہے۔
- آخرت کی فکر نیکی کے جذبے کو مضبوط کرتی ہے۔
