سنن نسائی حدیث ۲۲۴۹ - روزہ اور جہنم سے نجات کی امید

اللہ کی راہ کا روزہ اور آخرت کا فائدہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۴۹

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ مِنْ جَهَنَّمَ سَبْعِينَ عَامًا " .

ابو سعید خدری روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔

سنن نسائی حدیث ۲۲۴۹ کا خلاصہ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا۔ اس روایت میں “جہنم سے نجات کی امید” کا معنی حدیث کے الفاظ سے سمجھ آتا ہے، مگر بات کو حدیث کی حد میں رکھنا ضروری ہے: ستر سال کی دوری۔ یہ روزہ عام دکھاوے یا عادت کے طور پر نہیں، بلکہ اللہ کی راہ میں ہے۔ بندہ جب اللہ کے لیے ایک دن کی مشقت اٹھاتا ہے تو اللہ اس کے بدلے آگ سے دوری عطا فرماتا ہے۔ یہ حدیث روزے کے ثواب کو آخرت کے انجام سے جوڑ کر دل کو نیکی کی طرف مائل کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی راہ میں کیا گیا عمل آخرت میں فائدہ دیتا ہے۔
  • ایک دن کا روزہ جہنم سے ستر سال کی دوری کا سبب بتایا گیا ہے۔
  • روزہ اللہ کے لیے صبر اور برداشت کا عمل ہے۔
  • حدیث نیکی کے اجر کو اللہ کے فضل سے جوڑتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں