سنن نسائی حدیث ۲۲۵۰ - ایک دن کا روزہ اور ستر سال دوری

ایک دن کا روزہ، آگ سے ستر سال دوری

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۵۰

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، إِلَّا بَعَّدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .

ابو سعید خدری روایت:

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے بھی اللہ عزوجل کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ عزوجل اس دن کے بدلے اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔

سنن نسائی حدیث ۲۲۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو بندہ اللہ عزوجل کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ عزوجل اس دن کے بدلے اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دیتا ہے۔ یہاں “ما من عبد” کے انداز سے ہر بندے کے لیے فضیلت بیان ہوئی، مگر شرط پھر وہی ہے کہ روزہ اللہ کی راہ میں ہو۔ “ایک دن کا روزہ”، “آگ سے دوری” اور “روزے کی فضیلت” اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔ یہ حدیث بندے کو بتاتی ہے کہ اللہ کے لیے کیا گیا ایک دن کا عمل بھی بہت قیمتی ہو سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ بہت قیمتی عمل ہے۔
  • حدیث میں چہرے کو آگ سے ستر سال دور کرنے کا ذکر ہے۔
  • روزہ بندے کو اللہ کے لیے صبر کرنے کی عادت دیتا ہے۔
  • نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بڑھا دیتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں