سنن نسائی حدیث ۲۲۵۱ - فی سبیل اللہ روزے کا ثواب

فی سبیل اللہ روزہ رکھنے کی فضیلت

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۵۱

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَهُ اللَّهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا، اللہ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔

سنن نسائی حدیث ۲۲۵۱ کا خلاصہ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے کہ جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا، اللہ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا۔ روایت کے الفاظ مختصر ہیں، مگر معنی بہت واضح ہے۔ “فی سبیل اللہ روزہ” یعنی اللہ کی راہ میں رکھا گیا روزہ، عام دنیوی مقصد سے بلند عمل ہے۔ اس حدیث میں اجر کو جہنم سے دوری کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے سرچ کرنے والے عموماً “فی سبیل اللہ روزہ کی فضیلت”، “روزہ اور جہنم” یا “ایک دن روزہ ستر سال دوری” جیسے الفاظ لکھتے ہیں۔ یہ روایت بندے کو چھوٹے عمل کو بھی اللہ کے لیے خالص بنانے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فی سبیل اللہ روزہ آخرت کے لیے بڑی امید کا سبب ہے۔
  • حدیث میں ایک دن کے روزے پر ستر سال کی دوری بیان ہوئی ہے۔
  • روزہ اللہ کی رضا کے لیے ہو تو اس کی قدر بڑھ جاتی ہے۔
  • بندے کو نیکی میں اخلاص کا خیال رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں