سنن نسائی حدیث ۲۲۵۲ - روزہ آگ سے دوری کا سبب
اللہ کی راہ میں روزہ: آگ سے دوری
سنن نسائی : ۲۲۵۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۵۲
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَسُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
ابو سعید خدری روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے آگ سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۲۵۲ کا خلاصہ
اس روایت میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا: جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا، اللہ اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا۔ اس حدیث میں “آگ سے دوری” کا لفظی تعلق جہنم کی آگ سے ہے، اور اجر ستر سال کے فاصلے سے بیان کیا گیا۔ “اللہ کی راہ میں روزہ” اور “روزے کا ثواب” اس روایت کا اصل موضوع ہے۔ حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اللہ کے لیے کیا گیا ایک عمل بندے کے آخرت کے انجام میں بڑا فرق ڈال سکتا ہے۔ بات کو حدیث کے الفاظ تک محدود رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ روزہ بہت بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں روزہ رکھنا فضیلت والا عمل ہے۔
- حدیث میں آگ سے ستر سال دوری کا اجر بیان ہوا ہے۔
- روزہ بندے کو اللہ کے لیے مشقت اٹھانے پر آمادہ کرتا ہے۔
- آخرت کی فکر نیکی کو مضبوط بناتی ہے۔
