سنن نسائی حدیث ۲۲۵۳ - روزہ اور جہنم کی آگ سے دوری

روزہ جہنم کی آگ سے دوری کا ذریعہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۵۳

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ نَيْسَابُورِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ تَعَالَى بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ بھی اللہ کی راہ میں کسی دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اسے جہنم کی آگ سے ستر سال دوری پر کر دے گا“۔

سنن نسائی حدیث ۲۲۵۳ کا خلاصہ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو بندہ بھی اللہ کی راہ میں کسی دن کا روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے جہنم کی آگ کو اس کے چہرے سے ستر سال دور کر دے گا۔ یہاں حدیث میں “لا يصوم عبد” کے انداز سے بندے کے عمل کا ذکر ہے، اور “بذلك اليوم” سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی ایک دن کے روزے کے بدلے یہ اجر بیان ہوا۔ اس روایت کا مرکزی لفظ “جہنم کی آگ سے دوری” ہے۔ یہ حدیث روزہ رکھنے والے کو امید دیتی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ روزہ اللہ کی راہ میں ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے لیے کیا گیا ایک دن بھی معمولی نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھنا بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
  • حدیث کے مطابق جہنم کی آگ سے ستر سال دوری کا اجر ملتا ہے۔
  • نیکی کا بدلہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے دیتا ہے۔
  • روزے کو اللہ کی رضا کے لیے رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں