سنن نسائی حدیث ۲۲۵۴ - جہنم کی گرمی سے دوری
ایک روزہ اور جہنم کی گرمی سے دوری
سنن نسائی : ۲۲۵۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۵۴
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَاسِمٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ حَرَّ جَهَنَّمَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
ابو سعید خدری روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے بدلے اس سے جہنم کی گرمی کو ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۲۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے بدلے جہنم کی گرمی کو اس کے چہرے سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا۔ اس روایت میں پچھلی روایات کے مقابلے میں “حر جهنم” یعنی جہنم کی گرمی کا لفظ آیا ہے۔ اس لیے اس حدیث کا خاص موضوع “جہنم کی گرمی سے دوری” ہے۔ “اللہ کی راہ میں روزہ” یہاں بھی بنیادی شرط ہے۔ یہ روایت بندے کو بتاتی ہے کہ اللہ کے لیے بھوک پیاس برداشت کرنا آخرت میں آگ کی گرمی سے دوری کا سبب بن سکتا ہے، جیسا کہ حدیث کے الفاظ میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ جہنم کی گرمی سے دوری کا سبب بتایا گیا ہے۔
- حدیث میں اجر ستر سال کی دوری کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
- روزہ اللہ کے لیے صبر کرنے کی عملی شکل ہے۔
- نیکی کے الفاظ کو اسی طرح سمجھنا چاہیے جیسے حدیث میں آئے ہیں۔
