سنن نسائی حدیث ۲۲۵۵ - ایک روزہ اور جہنم سے حفاظت
اللہ کے لیے روزہ اور جہنم سے دوری
سنن نسائی : ۲۲۵۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۵۵
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَكُمُ ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس سے جہنم کی آگ کو ستر سال دور کر دے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۲۵۵ کا خلاصہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے آگ کو اس کے چہرے سے ستر سال دور کر دے گا۔ اس حدیث میں “النار عن وجهه” کے الفاظ آئے ہیں، یعنی آگ کو اس کے چہرے سے دور کیا جائے گا۔ “روزہ اور جہنم سے حفاظت” اس روایت کا اہم سرچ موضوع ہے، مگر لفظی طور پر حدیث میں ستر سال کی دوری بیان ہوئی ہے، اس لیے اسی انداز میں بات کرنا درست ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ اللہ کے لیے روزہ رکھنا آخرت کے لیے بہت نفع بخش عمل ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کا اجر جہنم سے دوری کی صورت میں بیان ہوا ہے۔
- ایک دن کا روزہ بھی اللہ کے نزدیک بڑا عمل ہو سکتا ہے۔
- حدیث میں چہرے سے آگ کو ستر سال دور کرنے کا ذکر ہے۔
- عمل میں اللہ کی رضا کو اصل مقصد بنانا چاہیے۔
