سنن نسائی حدیث ۲۲۵۶ - روزہ اور جہنم سے سو سال دوری

اللہ کی راہ میں روزہ: سو سال کی دوری

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۵۶

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَ اللَّهُ مِنْهُ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ مِائَةِ عَامٍ " .

عقبہ بن عامر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے جہنم کو سو سال کی مسافت کی دوری پر کر دے گا“۔

سنن نسائی حدیث ۲۲۵۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو اللہ عزوجل کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس سے جہنم کو سو سال کی مسافت کی دوری پر کر دے گا۔ اس روایت میں پچھلی کئی روایات سے ایک لفظی فرق ہے کہ یہاں “سو سال کی مسافت” کا ذکر آیا ہے۔ اس لیے اس حدیث کا خاص موضوع “روزہ اور جہنم سے سو سال دوری” ہے۔ حدیث کا پیغام یہی ہے کہ اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کا اجر بہت عظیم ہے۔ مگر بات کو اسی روایت کے الفاظ تک رکھنا چاہیے: ایک دن کا روزہ، اللہ کی راہ میں، اور جہنم سے سو سال کی مسافت کی دوری۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ بڑی فضیلت والا عمل ہے۔
  • اس روایت میں جہنم سے سو سال کی مسافت کی دوری کا ذکر ہے۔
  • روزہ اللہ کے لیے مشقت برداشت کرنے کا ذریعہ ہے۔
  • حدیث کے الفاظ کے فرق کو سمجھ کر بیان کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں