سنن نسائی حدیث ۲۴۶۵ - قوم سے زکاۃ وصول کرنے کا بیان
زکاۃ وصولی میں عدل اور احتیاط کا سبق
سنن نسائی : ۲۴۶۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۶۵
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ ثَفِنَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَلْقَمَةَ اسْتَعْمَلَ أَبَاهُ عَلَى صَدَقَةِ قَوْمِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
مسلم بن ثفنہ روایت:
´مسلم بن ثفنہ کا بیان ہے کہ` ابن علقمہ نے ان کے والد کو اپنی قوم سے زکاۃ وصول کرنے کے کام پر لگایا، اور پوری حدیث بیان کی۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۶۵ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے واقعے کا خلاصہ بیان کرتی ہے کہ ابن علقمہ نے مسلم بن ثفنہ کے والد کو اپنی قوم سے زکاۃ وصول کرنے کے کام پر مقرر کیا، پھر پوری حدیث بیان کی گئی۔ چونکہ اصل واقعے میں بکریوں کی زکاۃ، مناسب جانور کے انتخاب اور گابھن جانور نہ لینے کا ذکر ہے، اس لیے یہ روایت بھی اسی تعلیم کو مضبوط کرتی ہے۔ زکاۃ وصول کرنے کا کام امانت ہے۔ اس میں نہ سختی سے لوگوں کے بہترین مال کو چننا چاہیے، نہ واجب حق کو چھوڑنا چاہیے۔ زکاۃ کی وصولی، محصل زکاۃ کا کردار اور جانوروں کی زکاۃ جیسے موضوعات اس روایت سے جڑے ہیں۔ اس کا سادہ پیغام یہ ہے کہ دینی مالی حق لیتے وقت عدل، نرمی اور امانت کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکاۃ وصول کرنا امانت کا کام ہے۔
- قوم کے مال میں سے زکاۃ لیتے وقت انصاف ضروری ہے۔
- پچھلی روایت کے مطابق بہترین یا خاص جانور لینے سے بچنا چاہیے۔
- دینی کام کرنے والے کو نرمی اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
