سنن نسائی حدیث ۲۴۶۳ - صدقہ وصول کرنے والا راضی لوٹے
صدقہ وصول کرنے والا تم سے راضی واپس جائے
سنن نسائی : ۲۴۶۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۶۳
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : قَالَ جَرِيرٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَّدِّقُ فَلْيَصْدُرْ وَهُوَ عَنْكُمْ رَاضٍ " .
جریر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب صدقہ وصول کرنے والا تمہارے پاس آئے تو وہ اس حال میں لوٹے کہ وہ تم سے راضی ہو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۶۳ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر مگر صاف پیغام رکھتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب صدقہ وصول کرنے والا تمہارے پاس آئے تو وہ اس حال میں واپس جائے کہ تم سے راضی ہو۔ یہاں زکاۃ دینے والے کو یاد دلایا گیا ہے کہ مال کا حق ادا کرتے وقت دل تنگ نہ کرے، بحث نہ بڑھائے اور معاملہ اچھے اخلاق سے نمٹائے۔ زکاۃ کا مقصد صرف مال نکالنا نہیں، بلکہ اللہ کے حکم کے سامنے جھکنا بھی ہے۔ اس لیے صدقہ وصول کرنے والے سے بدسلوکی، تاخیر یا سخت بات کرنے کے بجائے آسانی پیدا کرنی چاہیے۔ زکاۃ کی حدیث، صدقہ ادا کرنے کا طریقہ اور محصل زکاۃ سے حسن سلوک اس روایت کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکاۃ دیتے وقت خوش دلی اور اچھا اخلاق مطلوب ہے۔
- صدقہ وصول کرنے والے کو بلا وجہ پریشان نہ کیا جائے۔
- مالی عبادت میں نرمی اور تعاون بھی شامل ہے۔
- واجب صدقہ ادا کرکے دل کو بوجھ سے بچانا چاہیے۔
