سنن نسائی حدیث ۲۴۸۳ - زکاۃ نہ دینے کا انجام
زکاۃ نہ دینے کا انجام: مال کا سانپ بننا
سنن نسائی : ۲۴۸۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۸۳
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الَّذِي لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ أقْرَعَ لَهُ زَبِيَبَتَانِ , قَالَ : فَيَلْتَزِمُهُ أَوْ يُطَوِّقُهُ ، قَالَ : يَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ ، أَنَا كَنْزُكَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی زکاۃ نہیں دیتا ہے، اسے قیامت کے دن اس کا مال ایسے خوفناک سانپ کی صورت میں نظر آئے گا جو گنجا ہو گا، اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ اس سے چمٹ جائے گا، یا اس کے گلے کا ہار بن جائے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کی زکاۃ نہ دینے کے انجام کو بہت صاف الفاظ میں بیان فرمایا۔ جو شخص اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا مال ایک خوفناک گنجے سانپ کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اس سانپ کی آنکھوں کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ اس شخص سے چمٹ جائے گا یا اس کے گلے کا ہار بن جائے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ زکاۃ مال صرف ایک مالی کام نہیں بلکہ اللہ کے حق کی ادائیگی ہے۔ مال کو روک کر رکھنا وقتی طور پر فائدہ لگ سکتا ہے، مگر حدیث کے مطابق قیامت میں یہی مال انسان کے لیے سخت گرفت کا سبب بن سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال کی زکاۃ ادا نہ کرنا قیامت کے دن سخت پکڑ کا سبب بن سکتا ہے۔
- جو مال اللہ کا حق ادا کیے بغیر جمع کیا جائے، وہ انسان کے خلاف گواہ بن سکتا ہے۔
- زکاۃ ادا کرنا مال کو پاک کرنے اور ذمہ داری پوری کرنے کا عمل ہے۔
