سنن نسائی حدیث ۲۴۸۲ - بچی کے کنگن اور زکاۃ کا مسئلہ
زکاۃ زیور: بچی کے کنگن والی روایت
سنن نسائی : ۲۴۸۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۸۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُسَيْنًا ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا بِنْتٌ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ , نَحْوَهُ مُرْسَلٌ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : خَالِدٌ أَثْبَتُ مِنَ الْمُعْتَمِرِ .
عمرو بن شعیب روایت:
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی اور اس کی بچی کے ہاتھ میں دو کنگن تھے، آگے اسی طرح کی روایت ہے جیسے اوپر گزری ہے۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: خالد معتمر سے زیادہ ثقہ راوی ہیں (اس لیے ان کی متصل روایت معتمر کی مرسل سے زیادہ صحیح ہے)۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمرو بن شعیب کا بیان ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی بچی تھی، اور بچی کے ہاتھ میں دو کنگن تھے۔ روایت میں کہا گیا ہے کہ آگے وہی مضمون ہے جو اوپر گزر چکا ہے، پھر یہ بھی بتایا گیا کہ یہ روایت مرسل ہے۔ آخر میں ابو عبدالرحمٰن نسائی رحمہ اللہ نے راویوں کے بارے میں بات کی کہ خالد، معتمر سے زیادہ ثقہ ہیں، اس لیے متصل روایت زیادہ مضبوط ہے۔ اس حدیث کا بنیادی موضوع زکاۃ زیور ہے، خاص طور پر بچی کے کنگن اور سونے چاندی کے زیور کی زکاۃ سے متعلق بحث۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ حدیث کے متن کے ساتھ سند کی حالت بھی بیان کی گئی ہے، تاکہ قاری صرف حکم نہیں بلکہ روایت کی نوعیت بھی سمجھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زیور کی زکاۃ کا مسئلہ حدیثی روایتوں میں اہم انداز سے آیا ہے۔
- حدیث سمجھتے وقت سند کی حالت کو بھی نظر میں رکھا جاتا ہے۔
- ثقہ راوی کی روایت کو کمزور یا مرسل روایت پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔
