سنن نسائی حدیث ۲۵۲۵ - پاکی کے بغیر نماز اور حرام مال کا صدقہ

حرام مال کا صدقہ قبول نہیں: پاک کمائی کی اہمیت

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۲۵

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الذَّارِعُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَاللَّفْظُ لِبِشْرٍ , عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ " .

اسامہ بن عمیر روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل بغیر پاکی کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی حرام مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۵۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو بہت واضح باتیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی یہ کہ اللہ عزوجل بغیر پاکی کے نماز قبول نہیں کرتا۔ دوسری یہ کہ حرام مال سے صدقہ قبول نہیں کیا جاتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت صرف ظاہری عمل کا نام نہیں، بلکہ اس کے لیے پاکی اور حلال کمائی کا خیال بھی ضروری ہے۔ نماز کے لیے طہارت چاہیے، اور صدقہ کے لیے پاک مال چاہیے۔ حرام مال سے صدقہ دینا اس حدیث کے مطابق قبولیت کا راستہ نہیں۔ اسی لیے پاک کمائی سے صدقہ، حلال مال کی اہمیت، اور عبادت میں پاکیزگی جیسے موضوعات اس حدیث کے اصل مضمون سے جڑے ہوئے ہیں۔ حدیث مختصر ہے مگر پیغام بہت صاف ہے کہ اللہ کے ہاں پاکیزہ عمل اور پاکیزہ مال ہی معتبر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کے لیے طہارت ضروری ہے۔
  • حرام مال سے دیا گیا صدقہ قبول نہیں ہوتا۔
  • صدقہ پاک اور حلال مال سے ہونا چاہیے۔
  • عبادت میں ظاہری عمل کے ساتھ پاکیزگی بھی دیکھی جاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں