سنن نسائی حدیث ۲۵۶۷ - فاضل مال روکنے کی وعید
فاضل مال روکنے کی وعید اور سخاوت کی تعلیم
سنن نسائی : ۲۵۶۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۶۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلَاهُ يَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ ، فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتَلَمَّظُ فَضْلَهُ الَّذِي مَنَعَ " .
معاویہ بن حیدہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی اپنے مالک کے پاس اس کی ضرورت سے زائد و فاضل چیز مانگنے آئے، اور وہ اسے نہ دے تو اس کے لیے قیامت کے دن ایک گنجا (زہریلا) سانپ بلایا جائے گا، جو اس کے فاضل مال کو جسے اس نے دینے سے انکار کر دیا تھا چاٹتا پھرے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۵۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک سخت تنبیہ بیان ہوئی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے مالک یا صاحب اختیار کے پاس اس کی ضرورت سے زائد چیز مانگنے آئے، اور وہ اسے نہ دے، تو قیامت کے دن اس کے لیے ایک گنجا زہریلا سانپ بلایا جائے گا جو اس روکے ہوئے فاضل مال کو چاٹتا پھرے گا۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ جب اللہ نے کسی کو ضرورت سے زائد دیا ہو اور کوئی محتاج اس سے سوال کرے، تو اسے بے حسی سے رد نہ کرے۔ یہاں فاضل مال کا ذکر ہے، یعنی وہ چیز جو انسان کی ضرورت سے بڑھ کر موجود ہو۔ سخاوت صرف مال خرچ کرنا نہیں، بلکہ دل کو تنگی سے بچانا بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت سے زائد چیز روکنے میں سخت خطرہ ہے۔
- مانگنے والے کی ضرورت کو آسانی سے رد نہیں کرنا چاہیے۔
- فاضل مال میں دوسروں کا خیال بھی رکھا جائے۔
- سخاوت دل کی تنگی کا علاج ہے۔
